لاہور: پنجاب اسمبلی نے جمعرات کے روز “پنجاب ریگولیشن آف کائٹ فلائنگ بل 2025” کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔ اس نئے قانون کا مقصد صوبے میں پتنگ بازی کو منظم کرنا اور اس سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کو روکنا ہے۔
خبر کی اہم باتیں:
-
پتنگ بازی کی اجازت، مگر شرائط کے ساتھ: اب پتنگ اڑانے پر مکمل پابندی نہیں ہوگی، لیکن یہ صرف حکومت کے مقرر کردہ مخصوص دنوں اور مخصوص جگہوں پر ہی اڑائی جا سکے گی۔
-
خطرناک ڈور پر مکمل پابندی: دھاتی تار، نائیلون کی ڈور اور شیشے یا کیمیکل لگی ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔ صرف سوتی دھاگے (کاٹن) کی اجازت ہوگی۔
-
سخت سزائیں اور جرمانے:
-
خلاف ورزی کرنے والوں کو 3 سے 5 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
-
غیر قانونی پتنگیں بنانے یا بیچنے والوں کو 5 سے 7 سال قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔
-
-
بچوں کے لیے قانون: اگر بچے خلاف ورزی کرتے پکڑے گئے تو ان کے خلاف بچوں کے قانون (Juvenile Justice System) کے تحت کارروائی ہوگی اور جرمانہ والدین کو ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔
-
گرفتاری: پولیس کو وارنٹ کے بغیر گرفتاری اور چھاپہ مارنے کا اختیار دے دیا گیا ہے اور یہ جرم ناقابلِ ضمانت ہوگا۔
بسنت کی واپسی؟ یاد رہے کہ پنجاب حکومت نے 18 سال بعد فروری میں “بسنت” کا تہوار منانے کا اعلان کیا تھا۔ یہ نیا قانون اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے تاکہ بسنت کو محفوظ طریقے سے منایا جا سکے۔ ڈپٹی کمشنرز (DCs) کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ پتنگ بازی کی جگہوں اور اوقات کا تعین کریں۔

