Site icon GDH NEWS

کرپٹو کرنسی کی دنیا میں تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی: ہیکرز نے 2.7 ارب ڈالر اڑا لیے

کرپٹو کرنسی کی دنیا میں تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی (1)

(نیوز ڈیسک) سال 2025 کرپٹو کرنسی کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک بھیانک سال ثابت ہوا ہے۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، سائبر مجرموں نے رواں سال ریکارڈ 2.7 ارب ڈالر (تقریباً 750 ارب پاکستانی روپے سے زائد) مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری کر لی ہے، جو کہ ڈیجیٹل کرنسی کی تاریخ میں اب تک کا سب سے بڑا نقصان ہے۔

بائی بٹ (Bybit) پر بڑا حملہ اس سال کا سب سے بڑا دھچکا دبئی میں قائم مشہور کرپٹو ایکسچینج ‘بائی بٹ’ کو لگا، جہاں ہیکرز نے نقب لگا کر 1.4 ارب ڈالر کے اثاثے صاف کر دیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نہ صرف کرپٹو کی دنیا کی سب سے بڑی چوری ہے بلکہ انسانی تاریخ کی بڑی مالیاتی ڈکیتیوں میں سے بھی ایک ہے۔

چوری کے پیچھے کون ہے؟ امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی (FBI) اور بلاک چین کے ماہرین نے اس چوری کا ذمہ دار شمالی کوریا کے سرکاری ہیکرز کو ٹھہرایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، شمالی کوریا کے ہیکرز نے اکیلے اس سال 2 ارب ڈالر سے زائد رقم چوری کی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ چوری کی گئی یہ خطیر رقم شمالی کوریا اپنے ایٹمی پروگرام کے لیے استعمال کرتا ہے۔

دیگر بڑے نقصانات صرف ‘بائی بٹ’ ہی نہیں، بلکہ کئی اور کمپنیاں بھی ان ہیکرز کا نشانہ بنیں:

سرمایہ کاروں کے لیے خطرے کی گھنٹی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں ہیکنگ کے واقعات ہر گزرتے سال کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ جہاں 2023 میں 2 ارب ڈالر چوری ہوئے تھے، وہیں 2024 میں یہ رقم 2.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی اور اب 2025 میں تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈیجیٹل کرنسی میں سرمایہ کاری کرنے والے افراد اور ادارے اپنی سیکیورٹی کو مزید سخت بنائیں کیونکہ ہیکرز اب پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور اور منظم ہو چکے ہیں۔

Exit mobile version